سرمدکھُوسٹ! لوگ تالیاں بجاتے ہیں -Ahmed-Hamaad

ui1-890x395_c

لیجنڈری افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی زندگی پر بننے والی فلم “منٹُو” پچھلے ماہ ریلیز ہوئی۔ ارادہ تو یہ تھا کہ فلم ریلیز ہونے کے ایک ہفتے کے اندر اندر اس پر تبصرہ رقم کر کے دوستوں کی خدمت میں پیش کر دیں، مگر چند دلچسپ عناصر ایسی گزرگاہ ثابت ہوئے جس پر خرام کرنا گویا “نہ پائے ماندن، نہ جائے رفتن” ایسے تذبذب سے گذرنا تھا۔ سو، تب نہ لکھ پائے۔ وہ عناصر کیا تھے، عرض کیے دیتے ہیں؛
یہ فلم اُستادِ محترم جناب سرمد کھُوسٹ کی تخلیق تھی۔ ان ہی کی شفقت، مروت اور محنت نے ہمیں اِس قابل بنایا کہ کسی فلم کا انتقاد تحریر کر سکیں۔ فلم کیسے دیکھی جاتی ہے، یہ ہمیں فطرت نے سکھا رکھا تھا۔ مگر فلم کیسے “پڑھی” جاتی ہے، یہ ہمیں جیمز موناکو کی بے مثال کتاب سے پہلے سرمد سلطان کھُوسٹ کی لگن اور مروت نے سکھایا۔ سو، انہی سے سیکھ کر انہی کی فلم پر انتقاد لکھنا ایک کٹھن کام تھا۔ احترام کا سحر اور استاد کا رُعب دل میں جاگزیں رہے تو انگلیاں ساکت ہوئیں۔ اس لیے تاخیر ہوئی۔
فلم کا اسکرین پلے بحیثیت مجموعی بہتر تھا۔ تاہم مکالمے چُست اور کاٹ دار نہیں تھے۔ ایک عظیم ادیب پر فلم بنانے کا منصوبہ تھا توقابلِ احترام ہدایتکار کو چاہیے تھا کہ وہ دستیاب مکالمہ نگاروں میں سے بہترین مکالمہ نگار کو یہ ذمہ سونپتے۔
فلم ریلیز ہوتے ہی ہمارے ادیب اور دانشور دوستوں نے اس پر تبصرے لکھنا شروع کر دیئے۔ حتی الوسع سب کو پڑھا۔ بیشتر کے تبصروں کا لب لباب یہ ہے کہ “منٹو” اچھی فلم ہے۔ مگر، جو بات ان کی تحریروں میں سب سے زیادہ کھٹکتی ہے، وہ یہ ہے کہ ان دوستوں نے بجائے فلم کے تکنیکی پہلوؤں پر بات کرنے کے، افسانہ نگار “منٹو” پر بات کی۔ فلم کے بہانے سعادت حسن منٹو کے فن اور شخصیت پر تبصرے کیے۔ جو اگرچہ اپنی جگہ قابل قدر کام ہے، مگر اسے فلم پر تبصرہ نہیں کہا جا سکتا۔ فلم پر تبصرہ کرنے کے لیے مبصر کا فلم کو بطور آرٹ اور بطور ٹیکنالوجی جاننا بہت ضروری ہے۔ اور یہ اہلیت منٹو کا اپنا کام، یا اُن پر کیا گیا کام پڑھنے سے نہیں، بلکہ فلم “پڑھنے” سے پیدا ہوتی ہے۔
اس تناظر اور اس صورتِ حال میں خاکسار ایک خالص فلمی انتقاد لکھنا چاہتا تھا۔ جسے ادیب بھی پڑھ سکیں اور فلم بین بھی۔ اس لیے بھی تاخیر ہوئی۔ مگر، آج یہ انتقاد لکھنے کی ٹھان لی، سو، جیسا بھی ہے، خلوص سے اور عجز و انکسار سے پیش کر رہا ہوں۔ قبول فرمائیے۔
منٹُو: دی فلم
اسکرین پلے، پلاٹنگ اور مکالمے:
مختلف کہانیوں سے تشکیل پانے والے کولاج میں تسلسل کے ساتھ بائیوپِک چلانا ایک مشکل کام تھایہ اسکرین پلے رائٹر کا امتحان تھا جس میں شاہد محمود ندیم کامیاب رہے۔ فلم کا اسکرین پلے کافی اچھے انداز میں پلاٹ کیا گیا ہے۔ تاہم، ہم اِس کی جُزئیات کو بے جھول اور کسے ہوئے کُل میں متشکل ہوتا نہیں دیکھتے۔ بطور کہانی کار، پردہِ سیمیں پر دِکھانے کے لیے منٹو کی زندگی کے جو واقعات شاہد ندیم نے منتخب کیے، اُن پر بحث جاری ہے۔مزید بحث کی گنجائش بھی موجود ہے مگر وہ ہمارا موضوع نہیں۔ ہمارا موضوع ہے، منتخب کردہ مواد کو کس انداز سے اسکرین پر پیش کا گیا ہے۔ تو عرض ہے کہ فلم کا اسکرین پلے بحیثیت مجموعی بہتر تھا۔ تاہم مکالمے چُست اور کاٹ دار نہیں تھے۔ ایک عظیم ادیب پر فلم بنانے کا منصوبہ تھا توقابلِ احترام ہدایتکار کو چاہیے تھا کہ وہ دستیاب مکالمہ نگاروں میں سے بہترین مکالمہ نگار کو یہ ذمہ سونپتے۔ ہم یہاں منٹو کی اپنی تحریروں میں موجود مکالموں کی بات نہیں کر رہے۔ ہم بات کررہے ہیں اُن مکالموں کی کہ جن کی مدد سے یہ بائیوپِک آگے بڑھتی ہے۔ یہ مکالمے منٹو کے شایانِ شان نہیں تھے۔
مروجہ دستور کے تناظر میں دیکھا جائے تو منٹو کے فریمز عمدہ ہیں اور ان کی کمپوزیشن بھی متوازن اور صاف ستھری ہے۔ رنگ اور روشنی کئی جگہوں پر تصویر اور آواز سے کہیں تیز کہانی کے معانی کی ترسیل کرتے ہیں۔
ساؤنڈ ڈیزائن اور بی جی ایم:
اگر تو یہ فلم چھوٹی اسکرین پر چلانے کے لیے بنائی گئی تھی، پھر ہمیں اس کے ساؤنڈ ڈیزائن پر زیادہ اعتراض نہیں۔ مگر، اِسے تو سینما ہالز کے لیے بنایا گیا تھا۔ اور سینما ہالز میں نمائش کے لیے پیش کیا جانے والا کام اپنے پروڈکشن ڈیزائن کے اعتبار سے ٹی وی سے مختلف ہوتا ہے۔ لہٰذا، ہم اگر بڑی اسکرین کے تناظر میں اس کے ساؤنڈ ڈیزائن پر اپنے تحفظات کا اظہار کریں تو حق بجانب ہوں گے۔ ہمارے خیال میں‌اس کا ساؤنڈ ڈیزائن اس کے اسکرین پلے کو بھرپور انداز میں support نہیں کر سکا۔ جس کی وجہ سے کئی ایک مقامات موثر visuals ہونے کے باوجود ناظر کے دل پر مناظر دیرپا اثر نہیں چھوڑ سکے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ فلم ڈرامے کی صنف(Genre) سے تھی اور منٹُو کی بائیوپِک تھی۔ جس میں‌سسپنس، تھرل وغیرہ کا تاثر دینے والا ساؤنڈ اُس انداز سے تخلیق نہیں کیا جا سکتا تھا جس انداز میں دیگر کسی بھی فکشن کے کام میں۔ مگر، کہانی سُنانے کے لیے جب ہم فلم کا میڈیم استعمال کرتے ہیں تو اس میڈیم کے تقاضے پورے کرنا لازمی ہوتا ہے۔ فلم “مُور” بھی ڈرامہ فلم تھی۔ اس میں ہدایتکار جامی نےجس انداز میں‌ کہانی سنانے کے لیے وژیولز کا اثر دوچند کرنے والا خالصتاً بڑی اسکرین کا جو ساؤنڈ ڈیزائن متعارف کرایا، قابلِ سماعت ہے۔ ہمارے خیال میں فلم “منٹو” کا ساؤنڈ ڈیزائن مزید بہتربنایا جا سکتا تھا۔
ٹھنڈا گوشت جس انداز سے پیش کی گئی، اس نے اِسے باقاعدہ ایک شاہکار فن پارہ بنا دیا ہے۔ اِسے فلم سے الگ دیکھا جائے تو بھی یہ ایک مکمل فن پارہ ہے۔
فریمنگ اور کمپوزیشن:
مروجہ دستور کے تناظر میں دیکھا جائے تو منٹو کے فریمز عمدہ ہیں اور ان کی کمپوزیشن بھی متوازن اور صاف ستھری ہے۔ رنگ اور روشنی کئی جگہوں پر تصویر اور آواز سے کہیں تیز کہانی کے معانی کی ترسیل کرتے ہیں۔ تاہم، اگر ہم اِسے سرمد کھُوسٹ صاحب کے اپنے مقرر کردہ معیار کے حوالے سے دیکھیں تو چند ایک جگہوں پر فریمنگ کے مسائل پیدا ہوئے۔ مثال کے طور پر صفیہ (ثانیہ سعید) جہاں سگریٹ سُلگا کر منٹو، سرمد صاحب، کو دیتی ہے، تو ثانیہ کا فریم کمزور ہے۔ یہاں ہینڈ ہیلڈ کیم کی چھُوٹ بھی نہیں دی جا سکتی۔ ان اِکا دُکا فریمز کے علاوہ بحیثیتِ مجموعی فریمنگ بھی عمدہ ہے اور کمپوزیشن بھی۔
اداکاری:
اداکاری کے شعبے میں‌سب سے زیادہ متاثر کُن خود سرمد صاحب رہے۔ ایسی بے مثال اداکاری کی کہ ناظرین دم بخود رہ گئے۔ بعض مقامات پر، مثلاً جنون کے انجیکشن لگواتے ہوئے اور خون تھوکتے ہوئے، ایسی شاندار اداکاری کی کہ دیکھنے والا خود کو اُسی اذیت کا شکار سمجھنے لگا جس سے کردار گزر رہا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ساری فلم میں‌ سرمد صاحب نے موڈ یکساں رکھا، جو غیر فطری تھا۔ ہم نے دو بار یہ فلم دیکھی۔ ہمیں ایسا ہرگز محسوس نہیں ہوا۔ گھر میں وائٹ واش کرتے ہوئے اداکاری کا انداز اور موڈ مختلف ہے۔ نُور جہاں کی آمد پر مختلف، پاگل خانے میں مختلف اور نمرہ بُچہ یعنی کہانی کی Personification کے ساتھ مختلف، منٹو کے اپنے ہی تخلیق کردہ کرداروں کے ساتھ اُلجھتے ہوئے اور شہاب کے میز پر برف خانے کا لائسنس پھینکتے ہوئے بالکل مختلف۔
صبا قمر کی اداکاری دیگر اداکاروں کی نسبت کمزور تھی۔ ریحان شیخ نے البتہ حیران کیا۔ سرمد صاحب نے کاسٹنگ خُوب کی۔ سبھی اداکار اپنے کردار کے ساتھ انصاف کرتے دِکھائی دیئے۔ یاسرہ رضوی ہوں یا شمعون، ماہرہ ہوں یا حنا بیات، عرفان کھوسٹ ہوں یا فیصل قریشی۔۔۔۔ سب نے یادگار کردار اد کیے۔
فلم کی دیگر نمایاں خُوبیاں:
ٹھنڈا گوشت جس انداز سے پیش کی گئی، اس نے اِسے باقاعدہ ایک شاہکار فن پارہ بنا دیا ہے۔ اِسے فلم سے الگ دیکھا جائے تو بھی یہ ایک مکمل فن پارہ ہے۔ یاسرہ اور شمعون کی پُرتاثیر اداکاری، فریم میں Props اور اُن پر کیمرے کی رسائی کے زاویے، بعدازاں اُن تمام کو ایڈٹ کر کے جس طرح ایک علامتی نظام قائم کیا گیا، اور پوری کہانی ان علامتوں کی مدد سے پیش کی گئی، یہ حصہ پوری فلم کا بہتریں حصہ کہلانے کا مستحق ہے۔ ہمارے خیال میں اپنی پروڈکشن اور پیشکش کے اعتبار سے فلم میں کم از کم تین ناقابلِ فراموش sequences ہیں:
1۔ ٹھنڈا گوشت
2۔ ابتدائی مائم
3۔ فیصل قریشی کا ریڈیو ڈرامہ، منٹو کا انصاف
علاوہ ازیں، ان گنت جگہوں پر سرمد صاحب نے معانی کی ترسیل کے لیے علامتوں سے کام لیا۔ اور کچھ ایسے تخلیقی انداز میں کام لیا کہ بجائے وہ مناظر فحش ہونے کے، فن پارہ بن گئے۔ بعض جگہ روایتی علامتیں استعمال کیں مگر بعض جگہ پر علامت بنائی اور استعمال کی۔ افسانے “لائنسس” کی پیشکش میں سُرخ لپ اسٹک کو جس روایتی علامت کے طور پر برتا گیا، قابل داد ہے۔ مگرسویرا ندیم نے جس طرح ہتھیلی کی پُشت کو ایک علامت کے طور پر پیش کیا اور پیشکش کے اس دورانیے میں بے مثال اداکاری کر کے یہ علامت mature کی، یہ منظر ناقابلِ فراموش بن گیا۔ شاید اس سے بہتر انداز میں اور اس سے زیادہ نفاست کے ساتھ یہ نہیں بتایا جا سکتا تھا کہ اب ٹانگے والی کوٹھا چلائے گی۔
ایڈیٹنگ:
ایڈیٹنگ نے اس پیریڈ فلم کو حقیقی فن پارہ بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ مگر خُدا لگتی کہوں تو ایڈیٹنگ دیکھ کر یہ بھانپنا مشکل نہیں تھا کہ کہاں سرمد صاحب کی خصوصی توجہ شاملِ حال رہی، اور کہاں پروفیشنل ایڈیٹر نے ایڈیٹنگ کے تقاضے مشینی انداز میں پورے کیے۔ فلیش بیک، فلیش فارورڈ، پیرالل، اور کانٹینیوٹی ایڈیٹنگ کچھ اس انداز میں کرنا کہ فلم بوجھل نہ ہوجائے، کوئی آسان کام نہیں۔ سچ پوچھیے تو سرمد صاحب کی اداکاری کے بعد جس خوبی نے سب سے متاثر کیا وہ اس فلم کی ایڈیٹنگ تھی۔
آخری بات:
فلم بنانا ایک پورا شہر بسانے کے مترادف ہوتا ہے۔ جب ہم فلم کی خامیوں کا تذکرہ کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ یہ شہر کھنڈر ہےبلکہ یہ ہوتا ہے کہ اس شہر کی خوبصورتی میں مزید کہاں کہاں پھولوں کے باغ لگانے سے اضافہ ہوسکتا تھا۔ سرمد صاحب نے ایک ایسے کام میں ہاتھ ڈالا جو صرف وہی کر سکتے تھے۔ ایسے کام کے لیے جس جنون اور مزاج کی ضرورت ہوتی ہے، اللہ نے سرمد صاحب کو ان سے نواز رکھا ہے۔ سرمد صاحب نے اپنی ان بے مثال صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ایک یاد رہ جانے والا شہکار تخلیق کیا ہے۔ ہم جس پر جتنا فخر کریں، کم ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ سرمد صاحب شاعرِ مشرق پر بھی ایک فلم بنائیں۔ یہ کام وہی کر سکتے ہیں۔
سرمد صاحب نے ہمیں فلم پڑھاتے ہوئے ایک بار فرمایا تھا، ڈائریکٹر کو اُس کے کام کا صلہ تب مل جاتا ہے، یعنی تب اُس کے پیسے پورے ہو جاتے ہیں جب ٹکٹ پر پیسہ خرچ کر کے سینما ہال میں آنے والا ناظر کسی سین پر تالیاں بجاتا ہے۔فلم منٹو میں ایسے کئی سین آئے جس پر ناظرین نے والہانہ انداز میں تالیاں بجائیں۔ اور فلم کے اختتام پر تو لوگ کھڑے ہو کر کافی دیر تالیاں بجاتے رہے۔
سرمد صاحب! آپ کو آپ کی محنت کا ریوارڈ مل گیا۔ اور ہمارا سر فخر سے اونچا ہو گیا۔ لوگ تالیاں آپ کے لیے بجاتے تھے۔ آپ کی اداکاری اور
ہدایتکاری پر بجاتے تھے، اور خوشی سے ہونٹ ہمارے کپکپاتے تھے اور کنجِ چشم ہمارا بھیگتا تھا۔

Ahmad Hammad

Ahmad Hammad is a poet. He teaches Film in the GCU Lahore. He works for PTV News as Content Producer. He’s been working as Executive Editor of the renowned English magazine World Times; and also teaching Media Theory in various universities of Pakistan. He hosts a Film-based weekly Radio Show which he started in 2010. He’s been anchoring shows for various TV channels including PTV.

Advertisements

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s